بنگلور2/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) معروف صحافی اور سماجی کارکن گوری لنکیش کے قتل کے معاملے میں آج جمعہ کو اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے ایک 37 سالہ ہتھیاروں کے ڈیلر کے ٹی نوین کمار کو اپنی حراست میں لے لیا جس کے تعلق سے بتایا جارہا ہے کہ اُس کے تار ہندو شدت پسند تنظیموں سے ہیں۔ ذرائع کے مطابق منڈیا کے مڈور سے تعلق رکھنے والے نوین کمار کو کرناٹک کی سینٹرل کرائم برانچ پولس نے گذشتہ ماہ 18 فروری کو ایک مصدقہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے بنگلور میجیسٹک کے کمپے گوڈا بس اسٹائنڈ سے ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ اس کے پاس سے پولس نے 15 رائونڈ کارتوس اور ایک پستول برآمد کی تھی۔
سی سی بی پولس کی پوچھ تاچھ کے بعد پتہ چلا تھا کہ اُس کا تعلق شدت پسند تنظیم سے ہے۔ آج خصوصی عدالت سے اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے نوین کمار کونو دنوں کے لئے اپنی حراست میں لیا ہے۔ ایس آئی ٹی کے اہم آفسر ایم اے انوچیت نے بتایا کہ نوین کمار کو ایس آئی ٹی نے اپنی حراست میں پوچھ تاچھ کے لئے لیا ہے۔ انہوں نے اس تعلق سے مزید کچھ جانکاری دینے سے انکار کیا۔پولس کے ایک اہم ذرائع کے مطابق یہ ایک چھوٹی مچھلی ہوسکتی ہے، البتہ اس کے پاس سے اہم معلومات ملنے کے امکانات ہیں۔ذرائع کی مانیں تو نوین کمار نے گوری لنکیش کے قاتلوں کو ہتھیار سپلائی کئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جب اسے کمپے گوڈا بس اسٹائنڈ سے ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تو اُسی وقت سے اُس سے پوچھ تاچھ جاری تھی۔بتایا جارہا ہے کہ نوین کمار کا تعلق ہندو یوا سینا سے ہے۔
55 سالہ گوری لنکیش کا بنگلور راج شری نگر میں واقع ان کے گھر پر شام قریب آٹھ بجے دو بائک سوار نقاب پوشوں نے پچھلے سال 5/ ستمبر کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ اس قتل کی گتھی کو سلجھانے کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم ترتیب دی گئی تھی جس کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری انسپکٹر جنرل آف پولس بی کے سنگھ کررہے ہیں۔ اس ٹیم میں بنگلور کے ڈپٹی کمشنر آف پولس ایم اے انوچیت اہم تحقیقاتی آفسر نامزد کئے گئے ہیں۔ اس قتل کی جانچ کے لئے قریب سو لوگوں کی ایک ٹیم الگ الگ زاویوں سے چھان بین میں مصروف ہے۔
خیال رہے کہ اس معاملے میں اب تک لگ بھگ 200 لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جاچکی ہیں. جبکہ دو خفیہ گواہوں کے بیانات پر SIT نے دو مشتبہ آفراد کے تین خاکے بھی جاری کئے تھے۔ یاد رہے کہ قاتلوں کی پختہ معلومات دینے کے لئے ایس آئی ٹی کی جانب سے 10 لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے.